LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ٹریژری بانڈز کی شدید فروخت: ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑا معاشی چیلنج

News Image
امریکہ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے سرکاری خزانے کے بانڈز کی بڑے پیمانے پر فروخت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی ٹیم کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث سود کی شرح اور امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی معاشی افق پر ایک ایسا اعداد و شمار ابھر کر سامنے آیا ہے جس نے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی ٹیم اور مالیاتی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ امریکی خزانے کے بانڈز یعنی یو ایس ٹریژری بانڈز کی بڑے پیمانے پر فروخت نے مالیاتی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سرمایہ کار بڑی تعداد میں امریکی سرکاری بانڈز فروخت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان بانڈز کی شرح منافع یا ییلڈ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف امریکی حکومت کے لیے قرضوں کی لاگت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی کساد بازاری کا پیغام ہو سکتی ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ٹریژری بانڈز کی ییلڈ کا بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو امریکہ کے مسلسل بڑھتے ہوئے قومی قرضے اور آئندہ کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ پالیسیوں، جن میں ٹیکسوں میں کٹوتی اور غیر ملکی پراڈکٹس پر بھاری ٹیرف شامل ہیں، کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان سے امریکی افراط زر یا مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس ممکنہ مہنگائی سے نمٹنے کے لیے فیڈرل ریزرو کو سود کی شرحیں طویل عرصے تک بلند رکھنا پڑیں گی، جو بانڈ مارکیٹ کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاشی تناؤ کے اثرات صرف واشنگٹن يا وال اسٹریٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ عام امریکی شہریوں اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ جب سرکاری بانڈز پر ییلڈ بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں مارگیج ریٹس، کار لونز اور کریڈٹ کارڈ کے سود کی شرحوں میں بھی خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں کے لیے گھر خریدنا یا کاروبار کے لیے قرضہ لینا مزید مہنگا ہو جائے گا، جس سے معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی آمد سے قبل پیدا ہونے والی اس غیر یقینی صورتحال نے معاشی منصوبہ سازوں کو فوری اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بانڈز کی اس فروخت پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو نئی حکومت کے لیے اپنے معاشی اہداف حاصل کرنا اور افراط زر کو کنٹرول میں رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک نمبر اس وقت امریکی قیادت اور معاشی ماہرین کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔