LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا معاشی بحران اور محمد باقر قالیباف کا انتباہ

News Image
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی بحران اسلامی جمہوریہ ایران کی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ملکی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ اقتصادی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ قالیباف نے حکومتی اور ریاستی حکام کے سامنے یہ بات واضح کی کہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات محض عارضی مسائل نہیں بلکہ یہ ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکی ہیں جہاں سے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی عدم استحکام نہ صرف معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے بلکہ ملکی سلامتی کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران طویل عرصے سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے جس کی بنیادی وجوہات بین الاقوامی پابندیاں، بدانتظامی اور کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی ہیں۔ قالیباف کی یہ تنبیہ ایران کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں ہونے والی اس بحث کی عکاسی کرتی ہے جہاں حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ معاشی پالیسیوں میں تبدیلی لائے۔ قالیباف نے زور دیا کہ اگر معاشی نظام کو درست سمت میں نہ لایا گیا تو عوامی عدم اطمینان میں اضافہ ہوگا جو ملکی سیاسی استحکام کے لیے کسی بھی وقت خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے بیانات کو حکومتی حلقوں میں ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ فوری عملی اقدامات کے بغیر معاملات سنبھالنا مشکل ہوگا۔ ایران کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے مبصرین کا ماننا ہے کہ حکمران طبقے میں بھی اب یہ احساس اجاگر ہو رہا ہے کہ معاشی بحالی کے بغیر ملک کی بیرونی اور اندرونی ساکھ کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اگرچہ ایران کے پاس قدرتی وسائل کی بڑی مقدار موجود ہے لیکن تکنیکی صلاحیتوں کے فقدان اور تنہائی کی وجہ سے ان وسائل کا درست استعمال نہیں ہو پا رہا ہے۔ قالیباف کی جانب سے یہ اعتراف کہ معیشت ملکی بقا کے لیے خطرہ ہے، ایرانی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ مانا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کو کچھ سخت اور فوری فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکے۔