Technology
ٹک ٹاک کا امریکہ سے 400 ملین ڈالر کا معاہدہ، بچوں کی پرائیویسی کا کیس حل
مشہور ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات پر امریکی حکومت اور محکمہ انصاف کے ساتھ 400 ملین ڈالر کا تصفیہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد کم سن صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع کو ختم کرنا ہے۔
مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق الزامات کو حل کرنے کے لیے امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ 400 ملین ڈالر کے ایک تاریخی تصفیے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس تصفیے کے ذریعے ٹک ٹاک اور امریکی حکام کے درمیان طویل عرصے سے جاری قانونی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ امریکی عدالتوں میں دائر کی گئی درخواستوں کے مطابق، ٹک ٹاک پر الزام تھا کہ اس نے بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، امریکی حکومت نے ٹک ٹاک اور اس کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس پر الزام عائد کیا تھا کہ ایپ نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا ان کے والدین کی اجازت کے بغیر جمع کیا۔ علاوہ ازیں، حکام کا کہنا تھا کہ ایپ نے والدین کی جانب سے اکاؤنٹس اور ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کی درخواستوں کے باوجود اس پر فوری اور مناسب عمل نہیں کیا۔ یہ اقدام امریکہ کے چلڈرن آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا جس پر امریکی محکمہ انصاف نے سخت موقف اختیار کیا۔ اس معاہدے اور تصفیے کے تحت ٹک ٹاک نہ صرف 400 ملین ڈالر کی بھاری رقم ادا کرے گا بلکہ اسے اپنے پلیٹ فارم پر کم سن صارفین کی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ اور ڈیٹا کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی اور سخت پالیسیاں نافذ کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل کا تدارک کیا جا سکے۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصفیہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بچوں کے ڈیٹا اور پرائیویسی کے معاملات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں تکنیکی کمپنیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے قانونی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر بچوں کی حفاظت حکومتوں کی اولین ترجیح بن چکی ہے اور کمپنیوں کو اب مزید جوابدہ ہونا پڑے گا۔