LIVE
Loading Breaking News...

ڈارتھ ویڈر کا سان ڈیاگو سٹی کونسل میں انوکھا خطاب، فلاک کیمروں کی حمایت

News Image
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں ایک شہری نے مشہور فلمی کردار 'ڈارتھ ویڈر' کا لباس زیب تن کر کے سٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور فلاک سیکیورٹی کیمروں کی حمایت کا ڈرامائی انداز میں اظہار کیا۔ اس نے طنز و مزاح کے پیرائے میں کونسل کے ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نگرانی کی یہ جدید ترین ٹیکنالوجی ہی شہنشاہ کی اصل ضرورت ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں سٹی کونسل کی پبلک سیفٹی کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس وقت ایک انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب مشہور سائنس فکشن فلمی سلسلے 'اسٹار وارز' کے معروف منفی کردار 'ڈارتھ ویڈر' کے لباس میں ملبوس ایک شخص ڈائس پر پہنچ گیا۔ اس شہری نے شہر میں متنازع فلاک سیکیورٹی کیمروں کے نظام کی حمایت میں عجیب و غریب اور طنزیہ انداز میں بیان دیا۔ پبلک سیفٹی کمیٹی کے اجلاس کے دوران جب عام شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا گیا تو ڈارتھ ویڈر کا سیاہ لباس اور ہیلمٹ پہنے اس شخص نے مائیکروفون سنبھالا اور کونسل کے ارکان سے کہا کہ 'شہنشاہ کو اسی کی ضرورت ہے۔' اس کا اشارہ شہر میں نصب کیے جانے والے فلاک کیمروں کی طرف تھا جو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی خودکار شناسائی اور نگرانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس انوکھے اور ڈرامائی انداز نے جہاں اجلاس میں موجود افراد کو حیران کیا، وہیں وہاں موجود کونسل ارکان اور شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹ بھی بکھیر دی۔ فلاک سیکیورٹی کیمرے امریکہ کے متعدد شہروں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور شہری آزادیوں کے کارکن ان کیمروں کے ذریعے وسیع پیمانے پر نگرانی اور نجی زندگی میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سان ڈیاگو میں بھی ان کیمروں کی منظوری اور توسیع کے حوالے سے کونسل میں شدید بحث جاری ہے، جہاں ایک طرف پولیس اور سیکیورٹی ادارے انہیں موثر سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف شہری اپنے ڈیٹا کے تحفظ اور پرائیویسی کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔ اس طنز و مزاح سے بھرپور خطاب کا مقصد چاہے جو بھی رہا ہو، لیکن اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق، شہری نے ڈارتھ ویڈر کا کردار اختیار کر کے دراصل ریاست کی جانب سے شہریوں کی ہمہ وقت نگرانی کی حکمت عملی پر ایک گہرا طنز کیا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایسی سخت اور ہمہ وقت نگرانی صرف کسی جابرانہ سلطنت میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔