Politics
پرائمری انتخابات میں پولنگ سروے کی ناکامی کے اسباب
موجودہ پرائمری انتخابی سیزن کے دوران عوامی رائے عامہ کے سروے اور حتمی نتائج میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین اس تضاد کی وجہ ووٹرز کے رویوں میں اچانک تبدیلی اور انتخابی سروے کرنے والے اداروں کے طریقہ کار میں موجود نقائص کو قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ میں جاری موجودہ پرائمری انتخابی سیزن کے دوران متعدد اہم انتخابی مقابلوں کے نتائج عوامی رائے عامہ کے جائزوں (Public Opinion Polls) سے نمایاں طور پر مختلف رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ رجحان انتخابی سروے کرنے والے اداروں اور ووٹرز کے رویوں کو سمجھنے والوں کے لیے ایک بڑی چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ خاص طور پر مشی گن سینیٹ ڈیموکریٹک پرائمری کے نتائج نے مبصرین کو حیران کر دیا، جہاں عبد السید جیسے ترقی پسند امیدوار کو پولنگ میں واضح برتری حاصل دکھائی گئی تھی، لیکن حتمی نتائج میں وہ صرف معمولی فرق سے ہی کامیاب ہو سکے۔ یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روایتی انتخابی سروے کے طریقہ کار اب زمینی حقائق کی درست عکاسی کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
اس صورتحال کے پیچھے کئی اہم وجوہات کارفرما ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ ووٹرز کی شرکت میں غیر متوقع تبدیلی ہے، جہاں سروے کرنے والے ادارے اکثر ان ووٹرز کو شامل کرنے سے قاصر رہتے ہیں جو آخری لمحات میں اپنا ذہن تبدیل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جدید دور میں ٹیلی فونک سروے کے بجائے ڈیجیٹل سروے کے بڑھتے رجحان نے بھی ڈیٹا کی درستگی کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے ووٹرز سروے کے دوران اپنی رائے ظاہر کرنے میں گریز کرتے ہیں یا پھر غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، جسے سیاسی ماہرین 'سوشل ڈیزائریبلٹی بائس' کا نام دیتے ہیں۔ یہ عوامل سروے کے اعداد و شمار کو حقیقت سے دور کر دیتے ہیں اور انتخابی نتائج میں غیر متوقع موڑ کا باعث بنتے ہیں۔
مزید برآں، امیدواروں کی انتخابی مہمات اب سوشل میڈیا اور ٹارگٹڈ اشتہارات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں، جس سے ووٹرز کی رائے پولنگ کے دن تک بدلتی رہتی ہے۔ روایتی سروے کرنے والے ادارے اکثر ان تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں کو پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سروے کے طریقہ کار کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا گیا، تو مستقبل کے انتخابات میں بھی عوامی رائے اور حتمی نتائج کے درمیان ایسا ہی خلیج برقرار رہے گا۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاسی جماعتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ عام ووٹرز کا بھی ان سروے رپورٹس پر اعتبار کم کر رہی ہے، جس کے دور رس اثرات جمہوریت کے عمل پر پڑ سکتے ہیں۔