Technology
کینیڈا میں ٹیک ٹیلنٹ کی نمو امریکہ کے مقابلے چار گنا تیز - تازہ ترین رپورٹ
سال 2025 کے دوران کینیڈا میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں 91,300 نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس سے اس شعبے میں کی جانے والی پیشرفت کو زبردست تقویت ملی۔ مجموعی ورک فورس کے تناسب سے دیکھا جائے تو کینیڈا میں ٹیک ٹیلنٹ کی ترقی کی رفتار امریکہ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ رہی۔
ایک تازہ ترین اقتصادی اور ٹیکنالوجی رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں ٹیک ٹیلنٹ اور اس شعبے سے وابستہ ملازمتوں کی نمو امریکہ کے مقابلے میں چار گنا تیز رفتار سے ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران کینیڈا نے ٹیکنالوجی کی صنعت میں 91,300 سے زائد نئی ملازمتوں کا اضافہ کیا، جو کہ ملک کی مجموعی ورک فورس کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک انتہائی نمایاں کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ اسی عرصے کے دوران امریکہ میں 108,760 نئی ٹیک ملازمتیں پیدا کی گئیں، لیکن دونوں ممالک کی افرادی قوت کے مجموعی تناسب کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کینیڈا نے ترقی کی رفتار میں امریکہ کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کینیڈا کی جانب سے ہنر مند افراد کے لیے دوستانہ ویزا پالیسیوں، ٹیکنالوجی کے شعبے میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری اور عالمی ٹیک کمپنیوں کے علاقائی دفاتر کے قیام نے اس تیز رفتار نمو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پیشرفت کے نتیجے میں کینیڈا کا شمار دنیا کے اہم ترین ٹیکنالوجی حبس میں ہونے لگا ہے، جہاں سے نئے اسٹارٹ اپس اور عالمی کمپنیاں یکساں طور پر مستفید ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مقابلے میں کینیڈا میں ورک فورس کی لاگت اور ویزا کی آسانی نے بین الاقوامی ہنر مندوں کو کینیڈا کی طرف راغب کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ شعبہ انتہائی تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو آنے والے سالوں میں کینیڈا کی معیشت میں ٹیکنالوجی کا شعبہ ایک بنیاد کی حیثیت اختیار کر لے گا۔