LIVE
Loading Breaking News...

منہ کی کلی سے کینسر کی ابتدائی تشخیص | صحت کی خبریں

News Image
طبی ماہرین نے ایک ایسی جدید اور سادہ کلی کا انکشاف کیا ہے جس کے ذریعے جوان افراد میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مہلک کینسر کی بروقت تشخیص کی جا سکتی ہے۔ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ منہ کی صحت انسانی جسم میں چھپی سنگین بیماریوں کی نشاندہی کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
طبی سائنس دانوں اور ماہرین صحت نے ایک نئی پیش رفت میں انکشاف کیا ہے کہ منہ کی ایک سادہ اور عام کلی کے استعمال سے نوجوانوں میں تیزی سے پھیلنے والے مہلک کینسر کی ابتدائی مرحلے میں ہی تشخیص کی جا سکتی ہے۔ انسانی منہ کو طویل عرصے سے مجموعی صحت کا آئینہ دار سمجھا جاتا رہا ہے، اور حالیہ تحقیقات نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ مسوڑھوں، زبان اور دانتوں میں موجود بیکٹیریا اور خلیات انسانی جسم میں چھپی مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سادہ اور آسان طریقے سے کینسر کے مریضوں کا ابتدائی علاج ممکن ہو سکے گا۔ تحقیق کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نوجوانوں اور کم عمر افراد میں مخصوص اقسام کے کینسر، بالخصوص منہ اور گلے کے کینسر کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کینسر کی ابتدائی علامات کا وقت پر پتہ نہ چلنا مریضوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اکثر اوقات بیماری اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ آگے کے مراحل میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اس نئے اورل رنس ٹیسٹ کے ذریعے منہ میں موجود تھوک اور خلیاتی نمونوں سے کینسر کا باعث بننے والے ڈی این اے اور مخصوص کیمیائی تبدیلیوں کی شناخت انتہائی آسان اور سستی ہو جائے گی۔ طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی سے ہسپتالوں اور لیبارٹریوں پر موجود دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی اور عام لوگ بھی باقاعدگی سے اپنا معائنہ کر سکیں گے۔ اس طریقے سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہو گی بلکہ ہزاروں قیمتی جانوں کو بچانا بھی ممکن ہو جائے گا۔ ماہرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ جلد ہی اس ٹیسٹ کو عام طبی معائنہ جات کا حصہ بنا دیا جائے گا تاکہ کینسر کی شرح پر موثر طور پر قابو پایا جا سکے۔