LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے اٹارنی جنرل کی نامزدگی پر امریکی سینیٹ میں رائے شماری التوا کا شکار

News Image
ریپبلکن پارٹی کے اراکین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیے جانے کے بعد سینیٹ کمیٹی میں رائے شماری ملتوی کر دی گئی ہے۔ ایک اہم ریپبلکن سینیٹر کا کہنا ہے کہ انہیں اینٹی ویپنائزیشن فنڈ سے متعلق مطلوبہ معلومات موصول نہیں ہوئیں۔
امریکی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب ریپبلکن اراکین نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کردہ شخصیت پر ووٹنگ کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی میں اس اہم معاملے پر رائے شماری ہونی تھی مگر بعض تحفظات کے باعث اسے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایک سینیئر ریپبلکن سینیٹر نے کھل کر کہا کہ انہیں نامزدگی کے حوالے سے کچھ اہم مالیاتی اور انتظامی امور پر اب تک وضاحت نہیں ملی۔ ذرائع کے مطابق، تنازعے کی ایک بڑی وجہ 'اینٹی ویپنائزیشن فنڈ' سے متعلق معاملات ہیں جن پر سینیٹرز مزید تفصیلات چاہتے ہیں۔ اس فنڈ کے استعمال اور اس کے اغراض و مقاصد کے بارے میں ریپبلکن اراکین کو مکمل بریفنگ درکار ہے تاکہ وہ کسی بھی قسم کے ابہام کے بغیر اپنا فیصلہ دے سکیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعطل نو منتخب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک ابتدائی امتحان کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ اپنے پسندیدہ امیدواروں کو جلد از جلد کلیدی عہدوں پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، سینیٹ کے اندر موجود قانونی اور طریقہ کار کی رکاوٹیں اس عمل کو تھوڑا طویل بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین بھی اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ نامزدگی کے عمل کے دوران سخت سوالات پوچھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وزارتِ انصاف جیسے حساس ادارے کے سربراہ کے لیے شفافیت انتہائی ضروری ہے اور کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کو دور کیے بغیر آگے بڑھنا درست نہیں ہوگا۔ متوقع ہے کہ آنے والے چند دنوں میں فریقین کے درمیان بات چیت کا نیا دور شروع ہوگا جس میں متعلقہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ رائے شماری کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔