Education
یونیورسٹی طلباء اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا بحران
مہنگائی کے طوفان اور رہائشی اخراجات میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے یونیورسٹی کے طلباء نے کیمپس کے قریب ہاسٹل میں رہنے کے بجائے گھر سے ہی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی لائف سے لطف اندوز ہونے سے محروم ہو رہے ہیں لیکن مالی مجبوریوں کے باعث ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔
دنیا بھر میں بالخصوص تعلیمی اداروں کے ارد گرد بڑھتے ہوئے رہائشی اخراجات اور مہنگائی نے طلباء کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب بیشتر طلباء یونیورسٹی کے قریب ہاسٹل یا فلیٹ کرائے پر لینے کے بجائے اپنے والدین کے ساتھ گھر پر ہی رہ کر تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیتا جاگتا مثال جیسیکا جیسی طالبہ ہے جو اس بات پر گہری تشویش میں مبتلا ہے کہ وہ روایتی یونیورسٹی لائف سے محروم ہو رہی ہے، لیکن اخراجات کی آسمان چھوتی قیمتوں نے اسے گھر پر رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اس رجحان سے طلباء کی سماجی اور فکری نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کا دور نوجوانوں کی زندگی کا وہ اہم ترین مرحلہ ہوتا ہے جہاں وہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے خود مختار فیصلے کرنا بھی سیکھتے ہیں۔ جب طلباء اپنے گھروں تک محدود ہو جاتے ہیں تو وہ ہم جولیوں کے ساتھ بیٹھنے، تعلیمی مباحثوں اور مختلف سوسائٹیز کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ نہیں لے پاتے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے کمروں کے کرایوں، یوٹیلیٹی بلز اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس نے متوسط اور نچلے طبقے کے خاندانوں کا بجٹ بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے۔ طلبا تنظیمیں اور ماہرین حکومت اور جامعات کی انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس بحران کا فوری نوٹس لیں۔ سستے ہاسٹلز کی فراہمی، اسکالرشپس اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں بہتری لا کر ہی طلباء کو اس مالی دباؤ سے نکالا جا سکتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی تناؤ کے اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کر سکیں۔