LIVE
Loading Breaking News...

لیبیا میں سیاسی بحران کا خاتمہ، انتخابات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں

News Image
لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے 15 سال بعد ملک میں ایک بار پھر سیاسی استحکام اور انتخابات کے انعقاد کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی معاونت سے تیونس میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لیبیا میں معمر قذافی کی طویل حکمرانی کے خاتمے اور 2011 کے انقلاب کے 15 سال بعد، ملک ایک بار پھر ایک اہم سیاسی موڑ پر کھڑا ہے۔ طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی، تقسیم شدہ حکومتی ڈھانچے اور سیاسی عدم استحکام کے بعد، لیبیا کی حریف قوتیں اب ملک میں انتخابات کے انعقاد اور قومی اتحاد کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔ تیونس میں اقوام متحدہ کے مشن برائے لیبیا (UNSMIL) کی میزبانی میں ہونے والے حالیہ اجلاسوں نے اس امید کو جنم دیا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی تعطل کو اب ختم کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ لیبیا کے مسائل کا حل محض قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ شفاف انتخابات کے ذریعے ایک جمہوری عمل کا آغاز ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران لیبیا نے سیاسی تجربات، عسکری تنازعات اور غیر ملکی مداخلت کے باعث شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اب جبکہ ملک کے اہم سیاسی دھڑے ایک مشترکہ انتخابی روڈ میپ پر بات چیت کر رہے ہیں، مبصرین اسے لیبیا کی تاریخ کا ایک نازک ترین مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔ اس عمل کا مقصد نہ صرف انتخابی عمل کو یقینی بنانا ہے بلکہ اداروں کی بحالی اور قومی سلامتی کو بھی مستحکم کرنا ہے۔ اگرچہ لیبیا میں سیاسی مفاہمت کی راہ میں اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں مختلف ملیشیاؤں کا اثر و رسوخ اور علاقائی کشیدگی شامل ہے، تاہم حالیہ دستخط شدہ مسوداتی معاہدے امید کی ایک کرن سمجھے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ وقت لیبیا کے تمام فریقین کے لیے ہے کہ وہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ایک متحد لیبیا کے قیام کے لیے کام کریں۔ اگر انتخابات کا انعقاد ممکن ہو جاتا ہے تو یہ لیبیا کے عوام کے لیے ایک طویل انتظار کے بعد امن اور خوشحالی کی طرف پہلا قدم ثابت ہو گا۔ آئندہ چند ماہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا لیبیا کی قیادت اپنے وعدوں پر قائم رہ کر ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔