LIVE
Loading Breaking News...

میانمار میں فوجی کارروائی، بدھ مت کے مندر پر بمباری سے 14 افراد ہلاک

News Image
میانمار میں فوج کی جانب سے ایک بدھ مت کے مندر پر کیے گئے فضائی حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس وقت مندر میں سو سے زائد افراد ایک مذہبی تقریب کے لیے موجود تھے۔
میانمار میں جاری شدید کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے دوران ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں بدھ مت کے ایک مندر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق میانمار کی فوج کی جانب سے کی گئی فضائی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب مندر کے اندر ایک مذہبی اجتماع منعقد ہو رہا تھا۔ مقامی رہائشیوں اور اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ حملہ ہوا، وہاں سو سے زائد افراد مذہبی اعتکاف اور عبادت کے لیے موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک ہونے والی اس بمباری نے مندر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں فوج اور باغی گروہوں کے درمیان طویل عرصے سے جھڑپیں جاری ہیں، تاہم مذہبی مقامات کو براہ راست نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نہتے شہریوں پر حملہ قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ میانمار کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے، جہاں فوجی بغاوت کے بعد سے حالات مسلسل کشیدہ ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اب سول آبادی اور مذہبی مقامات کو بھی محفوظ نہیں سمجھ رہی، جس سے ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور عسکری قیادت کی جانب سے ابھی تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، مقامی سطح پر لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ اس حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اب اس واقعے کو جنگی جرائم کے زمرے میں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور اس طرح کے واقعات کا سلسلہ روکا جا سکے۔