Business
امریکی قومی قرض چالیس ٹریلین ڈالر سے بڑھ گیا
امریکہ کا قومی قرض تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر چکا ہے اور اس میں تیز رفتار اضافہ جاری ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اس بھاری بھرکم قرض کا بوجھ بالآخر امریکی شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔
امریکہ کی معاشی تاریخ میں ایک نیا اور تشویشناک سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں ملک کا قومی قرض پہلی بار باضابطہ طور پر چالیس ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ مالیاتی اداروں اور اقتصادی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ قرض ریکارڈ رفتار سے بڑھ رہا ہے جو کہ ملک کی طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر بھی ماہرینِ معیشت کی توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ امریکی معیشت کا حجم اور اس کے اثرات پوری دنیا کی منڈیوں پر براہ راست انداز ہوتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں حکاخومتی اخراجات میں اضافے، بجٹ کے خسارے اور مختلف اقتصادی پیکیجز کی وجہ سے قومی قرض میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اتنی بڑی رقم کی واپسی اور اس پر بننے والے سود کا بوجھ آنے والے دنوں میں براہ راست امریکی عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام شہریوں کو آنے والے وقتوں میں ٹیکسوں میں اضافے یا سرکاری فلاحی خدمات میں کٹوتیوں کی صورت میں اس معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے درمیان اس بڑھتے ہوئے قرض کے بحران پر شدید بحث و مباحثہ جاری ہے جبکہ سیاسی جماعتیں اس صورتحال کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر رہی ہیں۔ ماہرین کا پرزور مطالبہ ہے کہ ملک کو اس معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے فوری طور پر سخت مالیاتی اصلاحات نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اخراجات پر قابو پایا جا سکے اور قرض کے بڑھتے ہوئے اس طوفان کو روکا جا سکے۔ بصورت دیگر، امریکی معیشت کو مستقبل قریب میں شدید نوعیت کے مالیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔