LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی کشمیر کی صورتحال: بھارتی پلے بک کا الزام

News Image
پاکستان پر پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں پرامن مظاہرین پر طاقت کے استعمال اور ہلاکتوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ عالمی حلقوں میں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے یہ سنگین سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں وہی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے جو طویل عرصے سے بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں استعمال کرتی رہی ہیں۔ اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے متعدد غیر مسلح افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان ہلاکتوں کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال اور بنیادی حقوق کی پامالی خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ مظاہرے بنیادی طور پر مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور عوامی مطالبات کے حق میں کیے جا رہے تھے، جنہیں پرامن طریقے سے حل کرنے کے بجائے طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی گئی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کا احتساب کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ریاست اور عوام کے درمیان خلیج مزید گہری ہو رہی ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سیاسی مکالمے کا راستہ اپنائے اور پرامن شہریوں پر تشدد کے اس سلسلے کو بند کرے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔