World
اسرائیلی بستیوں کے منصوبے پر پاکستان اور مسلم بلاک کا شدید ردعمل
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان ممالک کے مطابق یہ بستانکاری دو ریاستی حل کو ختم کرنے کی تزویراتی کوشش ہے۔
اسلام آباد اور عالمی دارالحکومتوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان اور سات دیگر اہم مسلم ممالک نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین خصوصاً مغربی کنارے میں اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کی پالیسیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مسلم بلاک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ قدم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جس سے خطے میں امن قائم کرنے کی تمام تر کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اسرائیل کی جانب سے ای-ون (E1) بستیوں کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے اقدام پر نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور کینیڈا نے بھی اپنے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کی اس متنازع بستی کاری پالیسی کی سخت مخالفت کی ہے۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد جاری رہا تو اس سے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور دو ریاستی حل مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جائے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی کامل حمایت جاری رکھے گا اور مقبوضہ علاقوں کی جغرافیائی و ڈیموگرافک حالت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ مسلم ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غیر قانونی اقدامات سے روکنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تنازع کو مزید بڑھنے سے بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع سے دو ریاستی حل کے لیے موجود آخری امیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں۔ فلسطینی قیادت اور بین الاقوامی قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری نے فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت نہ کی تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ایک نیا اور خطرناک دور شروع ہو سکتا ہے جو پورے خطے کے امن کو تباہ کر دے گا۔