LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ریاض انقرہ اتحاد اور خطے کی سلامتی پر اثرات

News Image
اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اور تزویراتی تعاون خطے میں نئی سکیورٹی حرکیات کو جنم دے رہا ہے۔ اس ত্রিপক্ষीय اتحاد میں بنگلہ دیش کی شمولیت کی خواہش نے بھی بین الاقوامی سطح پر مبصرین کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔
اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان قائم ہونے والا نیا تزویراتی اور دفاعی محور خطے کی سیاست اور سلامتی کے منظر نامے میں ایک اہم ترین پیش رفت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اس مثلثی اتحاد نے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دفاعی تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس اتحاد کا مقصد باہمی دفاعی تعاون کو فروغ دینا، عسکری صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ اس ابھرتے ہوئے اتحاد کو خطے کی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس دفاعی محور کی مضبوطی پر بعض علاقائی قوتوں کی طرف سے تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حلقوں کی جانب سے اس اتحاد پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نیا سفارتی اور دفاعی گٹھ جوڑ خطے کے روایتی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے بیانات اس بات کے غماز ہیں کہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کا یہ اشتراک بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط عسکری اور سیاسی بلاک کے طور پر ابھر رہا ہے، جس پر عالمی دارالحکومتوں میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس ابھرتے ہوئے تزویراتی ڈھانچے میں مزید وسعت کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش نے بھی اس سعودی-پاک-ترک دفاعی اتحاد میں شامل ہونے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جس کا اظہار بنگلہ دیشی وزیراعظم کے قریبی مشیر نے ایک بیان میں کیا۔ اگر یہ ممالک دفاعی اور معاشی میدان میں مزید قریب آتے ہیں تو خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک نیا اور طاقتور مرکز وجود میں آئے گا جو خطے کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔