LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سیاسی غیر یقینی صورتحال اور کے ایس ای 100 انڈیکس کی صورتحال

News Image
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سیاسی غیر یقینی صورتحال اور معاشی خدشات کے باعث شیئرز بازار شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ مارکیٹ میں جہاں سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کے باعث مندی دیکھی گئی، وہیں کچھ سیشنز میں جزوی مثبت پیشرفت بھی سامنے آئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں سیاسی غیر یقینی صورتحال اور معاشی خدشات کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس پر مندی کا دباؤ برقرار ہے۔ کاروباری سیشنز کے دوران سرمائے کے خروج اور فروخت کے شدید دباؤ کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر جاری سیاسی ہیجان اور اہم پالیسیوں سے متعلق عدم وضاحت نے اسٹاک ایکسچینج کی پیشرفت کو روک رکھا ہے، جس کی وجہ سے مقامی اور غیر ملکی دونوں طرح کے سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند سیشنز کے دوران شیئرز بازار میں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا۔ ایک طرف جہاں تین مسلسل منفی سیشنز کی وجہ سے انڈیکس کو سو سے زائد پوائنٹس کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور مارکیٹ سرخ نشان پر بند ہوئی، وہیں دوسری طرف بعض سیشنز میں نچلی سطح پر خریداری کے باعث انڈیکس میں 900 پوائنٹس سے زائد کا زبردست اضافہ بھی دیکھا گیا۔ تاہم سیاسی افق پر مستقل مزاجی کا فقدان اس مثبت رجحان کو زیادہ دیر برقرار نہ رکھ سکا اور مارکیٹ دوبارہ فروخت کے دباؤ میں آ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سرمایہ کار معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔ مالیاتی اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری روک لی گئی ہے اور وہ فی الوقت مارکیٹ کی مستقبل کی سمت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی حجم میں کمی اور شدید اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کا وہ خوف ہے جو سیاسی اور پالیسی کے غیر یقینی ماحول سے جنم لیتا ہے۔ کاروباری ہفتے کے اختتام پر اگرچہ کچھ سیشنز میں مثبت بحالی دیکھی گئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے، لیکن مارکیٹ کا مجموعی ماحول اب بھی محتاط بنا ہوا ہے۔ معاشی حلقوں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسٹیٹ بینک کی مالیاتی پالیسی، غیر ملکی تدابیر اور سیاسی معاملات میں بہتری کے بعد ہی اسٹاک ایکسچینج میں پائیدار اور مسلسل توازن قائم ہو سکے گا۔