LIVE
Loading Breaking News...

لارڈ او نیل کا برنہم کی ٹیم میں حکومتی عہدہ لینے سے انکار | عالمی معاشی خبریں

News Image
گولڈمین سیکس کے سابق چیف اکنامسٹ لارڈ او نیل نے اینڈریو برنہم کے معاشی مشیر کے طور پر حکومتی عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے ان تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ نئی انتظامیہ میں اہم اقتصادی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
برطانیہ کی سیاسی اور معاشی راہداریوں میں اس وقت اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جب گولڈمین سیکس کے سابق چیف اکنامسٹ لارڈ او نیل نے سینیئر لیبر رہنما اور مانچسٹر کے میئر اینڈریو برنہم کی ٹیم میں باقاعدہ حکومتی یا انتظامی عہدہ سنبھالنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹس اور سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ لارڈ او نیل کو اینڈریو برنہم کا چیف اکنامک ایڈوائزر (سربراہ معاشی مشیر) مقرر کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد معاشی پالیسی سازی کے حوالے سے مختلف بحثیں جنم لے رہی تھیں۔\n\nلارڈ او نیل عالمی معیشت اور مالیاتی پالیسیوں میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں اور ماضی میں وہ گولڈمین سیکس جیسے عالمی مالیاتی ادارے کے سربراہ معاشی دان کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ برطانوی سیاست اور معیشت کے باخبر ذرائع کے مطابق، اینڈریو برنہم اپنی معاشی ٹیم کو مضبوط بنانے اور علاقائی معیشت کو ترقی دینے کے لیے اہم مالیاتی شخصیات کے ساتھ مشاورت کر رہے تھے۔ تاہم لارڈ او نیل کے اس حالیہ فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے رسمی حکومتی عہدے پر فائز ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔\n\nاس فیصلے کے بعد اب برنہم کی معاشی حکمت عملی اور ان کی آئندہ ٹیم کی ساخت کے حوالے سے نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ لارڈ او نیل کی غیر رسمی مشاورت کی حد تک دستیابی تو ممکن ہو سکتی ہے، لیکن براہ راست انتظامی ذمہ داریوں سے ان کے انکار کے بعد اینڈریو برنہم کو اپنے معاشی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے دیگر جید ماہرین معیشت کی طرف دیکھنا ہو گا۔ یہ پیش رفت برطانیہ میں جاری معاشی اصلاحات اور مقامی و قومی سطح پر مالیاتی پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔