LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سپریم کورٹ کا وائٹ ہاؤس بال روم کیس میں بڑا فیصلہ

News Image
امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس کے بال روم کی تعمیر کا کام فی الحال جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری رکھی جا رہی ہیں جس پر صدر نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر کا کام فی الحال جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت کے اس عبوری فیصلے کے بعد تعمیراتی عملے کو ایک بار پھر تیزی سے کام کرنے کا موقع مل گیا ہے اور تعمیراتی سرگرمیاں دن رات جاری رکھی جا رہی ہیں۔ چیف جسٹس جان روبرٹس کی جانب سے دیے گئے اس حکم نے فی الحال ان تمام قانونی رکاوٹوں کو پس پشت ڈال دیا ہے جو اس متنازعہ تعمیراتی منصوبے کے راستے میں حائل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق تعمیراتی ٹیمیں روزانہ بیس گھنٹے تک طویل شفٹوں میں کام کر رہی ہیں تاکہ منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ اس عدالتی پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی خوشی کا کھل کر اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس وقت انتہائی اچھے موڈ میں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والی اس بڑی تبدیلی نے جہاں ایک طرف سیاسی مبصرین کی توجہ حاصل کی ہے، وہیں دوسری طرف اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید اور تعریف کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تاریخی عمارت کی ہیئت تبدیل کرنے کے عمل میں ضابطے کی کئی چیزوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ صدر کو اپنے کام کرنے کے لیے ضروری اختیارات حاصل ہیں۔ یہ تازہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں متعدد اہم موضوعات پر بحث جاری ہے، لیکن بال روم کی تعمیر کا یہ معاملہ میڈیا کی سرخیوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے فی الحال کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم اس منصوبے کے خلاف دائر دیگر درخواستوں پر آنے والے دنوں میں مزید قانونی کارروائی ہو سکتی ہے، جس پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔