Politics
عمران خان اور آصف منیر تعلقات، پی ٹی آئی کا نیا سیاسی مؤقف
پاکستان تحریک انصاف کے ایک قریبی رہنما نے اشارہ دیا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان رہا ہوتے ہیں تو وہ فوج کے سربراہ سے محاذ آرائی سے گریز کریں گے۔ اس تازہ ترین سیاسی پیشرفت کو مبصرین کی جانب سے پاک فوج اور پی ٹی آئی کے تعلقات میں ممکنہ نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی حلقوں اور قریبی مشیروں کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات نے ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سابق وزیراعظم عمران خان کے ایک قریبی معاون کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو جیل سے رہائی ملتی ہے تو وہ ملک کے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی پر عمل نہیں کریں گے۔ اس بیان کو پاکستان کی سیاست میں ایک اہم موڑ اور ممکنہ یوٹرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد یہ اشارے دونوں فریقین کے درمیان تعلقات میں بہتری یا برف پگھلنے کی علامت ہو سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پی ٹی آئی اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں اور عمران خان کی جانب سے براہ راست تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، اس تازہ ترین انکشاف نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے کہ شاید آنے والے دنوں میں سیاسی تناؤ میں کمی واقع ہو سکے۔ دوسری جانب، حکومتی حلقوں اور مخالف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن تجزیہ کار اسے عمران خان کی نئی سیاسی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی مستقبل کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا عمران خان کی رہائی کی راہ میں حائل رکاوٹیں اس مبینہ مفاہمت یا نرمی کے بعد کم ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ بہرحال، پی ٹی آئی کے اس اشارے نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے اور تمام نگاہیں اب عدالتی فیصلوں اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔