LIVE
Loading Breaking News...

امریکی جج نے 75 ممالک پر ویزا پابندی ختم کر دی | نکسورا نیوز

News Image
امریکی وفاقی جج نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ معطل کرنے کا حکومتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس اہم فیصلے سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے ویزا درخواست گزاروں کو بڑی راحت ملی ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے امریکی وزارت خارجہ کی اس متنازع پالیسی کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ معطل کر دی گئی تھی۔ عدالت کے اس اہم فیصلے کو ہزاروں ویزا درخواست گزاروں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک بڑی قانونی اور آئینی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم متعلقہ امیگریشن قوانین کے منافی تھا۔ جج نے اپنے فیصلے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر ویزا خدمات کو معطل کرنے کے لیے کوئی معقول یا قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا تھا، اور نہ ہی انتظامیہ کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ بیک جنبش قلم درجنوں ممالک کے ویزا کارروائی کو منجمد کر دے۔ اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان، بھارت اور دنیا کے دیگر 73 ممالک کے وہ شہری جو امریکہ میں اپنے خاندانوں سے ملنے یا وہاں قانونی طور پر منتقل ہونے کی امید لگائے بیٹھے تھے، شدید تشویش اور بے یقینی کا شکار ہو گئے تھے۔ فیصلے سے پاکستان سمیت تمام 75 ممالک کے درخواست گزاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی حکم کے بعد امریکی وزارت خارجہ اور دنیا بھر میں موجود امریکی سفارت خانوں و قونصل خانوں کو ہدایت جاری کی جائے گی کہ وہ معطل شدہ امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر فوری طور پر کارروائی دوبارہ شروع کریں۔ اس اقدام سے کئی سالوں سے زیر التوا ویزا کیسز کی نمٹائی میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ اگرچہ امریکی حکومت اس عدالتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا حق رکھتی ہے، تاہم فی الوقت اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی ویزا نظام میں ایک بڑا تعطل دور ہو گیا ہے اور قانونی طریقہ کار سے امریکہ جانے والے افراد کے لیے دروازے دوبارہ کھل گئے ہیں۔