Politics
عمران خان کی رہائی کی تحریک تیز کرنے کی ہدایت، ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے پمز ہسپتال میں طبی معائنے کے دوران اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں رہائی کی تحریک تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان کو تنہائی اور شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے مصر کے سابق صدر مرسی جیسی صورتحال سے دوچار ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اپنی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان سے ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اپنی رہائی کے لیے جاری تحریک تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پمز ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی سے علی الصبح ہونے والی مختصر ملاقات کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے شکایت کی ہے کہ انہیں جیل میں شدید تنہائی کا سامنا ہے اور کسی انسانی تفاعل یا بات چیت کی اجازت نہیں دی جا رہی، جسے انہوں نے شدید ذہنی اذیت قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں اور اپنی بہنوں کی موجودگی میں میڈیا کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی شدید بے چینی اور تناؤ کا شکار ہیں اور انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی طرح تنہائی کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دس ماہ سے عمران خان کو اخبارات اور ٹیلی ویژن تک کوئی رسائی حاصل نہیں ہے، جس کے باعث وہ ملکی حالات اور موجودہ پیشرفت سے مکمل طور پر ناواقف ہیں۔ طبی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا بلڈ پریشر فی الوقت نارمل ہے اور نظر میں بہتری آئی ہے، تاہم آنکھ میں معمولی ہیمرج باقی ہے۔
ملاقات کے احوال پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کی رہائی کے لیے عوامی اور سیاسی تحریک میں تیزی لائی جائے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومت پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چند گھنٹوں کے علامتی طبی معائنے کے بعد صبح صادق سے قبل بانی پی ٹی آئی کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کرنا کئی سنگین سوالات جنم دیتا ہے۔
اس تمام تر صورتحال پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) انتظامیہ نے اپنے دیر گئے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے دو ماہرینِ چشم نے بھی شرکت کی، جبکہ دیگر طبی معائنے پمز کے متعلقہ ماہرین نے انجام دیے۔ پمز انتظامیہ کا کہنا تھا کہ آنکھوں کی جانچ کے نتائج اور ہسپتال میں کی جانے والی دیگر طبی تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو مکمل طبی دیکھ بھال فراہم کی گئی ہے۔