LIVE
Loading Breaking News...

لنڈسے کلینسی کیس: زچگی کے بعد شدید نفسیاتی بیماری اور حکمیہ وہم کے سنسنی خیز انکشافات

News Image
لنڈسے کلینسی کیس کی سماعت کے دوران دفاعی ٹیم کے آخری گواہ نے عدالت میں زچگی کے بعد شدید نفسیاتی مسائل پر تفصیلی شہادت دی۔ فارنزک سائیکیاٹرسٹ نے بتایا کہ ملزمہ واقعے کے وقت شدید ہلوسینیشن اور ذہنی دباؤ کا شکار تھی جس نے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی تھی۔
امریکہ میں بچوں کے قتل کے المناک کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ وکلائے صفائی کی جانب سے پیش کیے گئے آخری اہم گواہ، جو کہ ایک ماہر فارنزک سائیکیاٹرسٹ ہیں، نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے وقت ملزمہ لنڈسے کلینسی 'کمانڈ ہلوسینیشن' یعنی حکمیہ وہم اور آوازوں کے شدید اثر کے زیر اثر تھی۔ ماہر نفسیات کے مطابق، ملزمہ زچگی کے بعد پیدا ہونے والے انتہائی شدید اور نادر نفسیاتی عارضے 'پوسٹ پارٹم سائیکوسس' میں مبتلا تھی، جس نے اس کے ذہنی توازن کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا تھا۔ عدالت میں پیش کی گئی اس ماہرانہ شہادت کا مقصد ملزمہ کے ذہن اور اس کے اقدام کے پس منظر کو واضح کرنا تھا۔ فارنزک سائیکیاٹرسٹ نے تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پوسٹ پارٹم سائیکوسس کا شکار خواتین اکثر غیر حقیقی آوازیں سنتی ہیں جو انہیں مخصوص اقدامات کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جسے طبی اصطلاح میں 'کمانڈ ہلوسینیشن' کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں مبتلا فرد کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں رہتی اور وہ اپنے حواس میں نہیں ہوتا۔ دفاعی ٹیم کے مطابق لنڈسے بھی اس وقت اسی ہولناک ذہنی حالت سے گزر رہی تھی جب اس نے اپنے بچوں کی جان لی۔ سماعت کے دوران ماہر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زچگی کے بعد ڈپریشن اور سائیکوسس ایک سنگین طبی بیماری ہے جس کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں نتائج انتہائی دہلا دینے والے ہو سکتے ہیں۔ لنڈسے کلینسی کا کیس امریکہ اور دنیا بھر میں زچگی کے بعد خواتین کی ذہنی صحت سے متعلق تحفظات اور شعور کی بیداری کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ استغاثہ اور صفائی کے وکلا کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت میں اس کیس کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔ اس کیس نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ طبی اور سماجی ماہرین میں بھی زچگی کے بعد نفسیاتی صحت کے مسائل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں ماؤں کی ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔ کیس کی مزید سماعت اور آنے والے فیصلے پر پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔