LIVE
Loading Breaking News...

بحیرہ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی حادثے کا شکار، تیرہ افراد لاپتہ

News Image
اٹلی جانے کی کوشش کرنے والی تارکینِ وطن کی ایک کشتی بحیرہ روم میں الٹ گئی جس کے نتیجے میں کم از کم تیرہ تیونسی شہری لاپتہ ہو گئے۔ سنہ 2014 سے اب تک ہزاروں افراد یورپ پہنچنے کی اس خطرناک کوشش میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
بحیرہ روم کے خطرناک راستے سے یورپ جانے کی کوشش کے دوران ایک اور المیہ پیش آیا ہے جہاں تارکینِ وطن کی ایک کشتی حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم تیرہ تیونسی شہری لاپتہ ہو گئے ہیں جن کی تلاش کے لیے مقامی حکام کی جانب سے ریسکیو اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ کشتی تیونس کے ساحل سے روانہ ہوئی تھی اور اس کا مقصد بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی کے ساحلوں تک پہنچنا تھا لیکن خراب موسم اور اوور لوڈنگ کی وجہ سے یہ بحری جہاز اپنے منزل مقصود پر نہ پہنچ سکا۔ بحیرہ روم کا یہ راستہ دنیا کے طویل ترین اور خطرناک ترین سمندری راستوں میں سے ایک مانا جاتا ہے جہاں تارکینِ وطن کی زندگیاں ہمیشہ داؤ پر لگی رہتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2014 سے لے کر اب تک ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین اور تارکینِ وطن بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانے کی کوشش کرتے ہوئے سمندر کی بے رحم موجوں کا نوالہ بن چکے ہیں۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ممالک جیسے کہ تیونس اور لیبیا سے یورپ کا رخ کرنے والے ان افراد میں زیادہ تر جنگ زدہ یا معاشی بحران کے شکار ممالک کے شہری شامل ہوتے ہیں جو انسانی اسمگلروں کے چنگل میں پھنس کر اپنی جمع پੂੰجی لٹا بیٹھتے ہیں اور بعض اوقات اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد تیونس اور دیگر متعلقہ ممالک میں ایک بار پھر شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ بحیرہ روم میں بڑھتے ہوئے ان سمندری حادثات کو روکنے کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ریسکیو آپریشنز کافی نہیں ہیں بلکہ بنیادی وجوہات جیسے کہ غربت، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کا حل تلاش کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ اس قسم کے خطرناک اور جان لیوا سفر پر مجبور نہ ہوں۔