LIVE
Loading Breaking News...

لندن احتجاج: فلسطین ایکشن کے حامیوں کی گرفتاری اور صورتحال

News Image
برطانوی دارالحکومت لندن میں فلسطین ایکشن کی حمایت میں نکالے گئے احتجاجی جلوس کے دوران پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ اینڈی برہم کے وزیراعظم بننے کے بعد اس ممنوعہ گروہ کی حمایت میں یہ پہلا بڑا مظاہرہ تھا۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں فلسطین ایکشن کی حمایت میں منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ مظاہرہ اس وقت پرتشدد اور قانون شکنی کی زد میں آ گیا جب مظاہرین نے سڑکیں بند کرنے اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے امن عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے درجنوں افراد کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ سیاسی اور سماجی حلقوں میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اینڈی برہم کے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد سے ممنوعہ گروہ 'فلسطین ایکشن' کی حمایت میں نکالا جانے والا یہ پہلا بڑا عوامی اجتماع تھا۔ اس صورتحال نے ملک میں دائیں بازو کی سیاست، اظہار رائے کی آزادی اور سکیورٹی قوانین کے درمیان جاری مباحثے کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مظاہرین کے ترجمانوں نے پولیس کی جانب سے کی جانے والی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ شہریوں کو پرامن احتجاج کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور حکام کو اس پر قدغن نہیں لگانی چاہیے۔ دوسری جانب، برطانوی حکومت اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر ہو کر کسی کو بھی امن عامہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ممنوعہ تنظیموں کی کھلم کھلا حمایت کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے بعد دارالحکومت میں مزید احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔