LIVE
Loading Breaking News...

امریکی عدالت کا تارکین وطن کے ویزوں پر پابندی ختم کرنے کا حکم

News Image
مینہیٹن کے ایک وفاقی جج نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تارکین وطن کے ویزوں کی معطلی کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے پچھہتر ممالک کے ہزاروں متاثرہ افراد کو بڑا ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مینہیٹن کے ایک وفاقی جج نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تارکین وطن کے ویزوں کی معطلی کے خلاف ایک اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے دنیا بھر کے تقریبا پچھہتر ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کو بڑی راحت ملی ہے جو امریکہ منتقل ہونے کے خواہشمند تھے اور ویزا پالیسیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ تارکین وطن کے حقوق کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ابتدائی طور پر اس پالیسی کے تحت دنیا کے متعدد ممالک کے تارکین وطن کے لیے امریکی ویزوں کے اجراء کو معطل یا سخت محدود کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کے معاملات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ متاثرہ فریقین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پابندی کو چیلنج کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ یہ پابندیاں عجلت میں اور من مانے طریقے سے عائد کی گئی ہیں جن کا مقصد قانونی تارکین وطن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ وفاقی عدالت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد اب اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو اپنی ویزا پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور متاثرہ درخواست گزاروں کے معاملات کو قانون کے مطابق دوبارہ دیکھنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ان تمام افراد کے لیے بھی راہیں کھلیں گی جو طویل عرصے سے اپنے ویزا انٹرویوز اور فیصلوں کے منتظر بیٹھے تھے۔ حکومت کی جانب سے فی الحال اس فیصلے پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔