World
برطانیہ میں ڈوبنے والی چھ سالہ فلسطینی بچی کا انتقال
برطانیہ کے ساحل پر سمندر میں ڈوبنے والے فلسطینی نژاد خاندان کی چھ سالہ بچی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔ اس حادثے میں بچی کے والدین اور بہن پہلے ہی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
برطانیہ کے ساحل پر سمندر میں پیش آنے والے ایک دلخراش اور انتہائی افسوسناک واقعے میں ڈوبنے والے فلسطینی نژاد خاندان کی چھ سالہ بچی سجا الخواص بھی چند روز تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد ہسپتال میں انتقال کر گئی ہے۔ اس چھوٹی بچی کی موت کے ساتھ ہی اس پورے خاندان کا المناک خاتمہ ہو گیا ہے کیونکہ اس سے قبل اس کے والدین اور بہن بھی اسی حادثے میں لقمہ اجل بن چکے تھے۔ یہ دردناک واقعہ گزشتہ منگل کو برطانوی ساحل کے قریب پیش آیا تھا جہاں تفریح کے لیے آنے والا یہ خاندان سمندر کی طغیانی اور تیز لہروں کی زد میں آ گیا تھا۔ عینی شاہدین اور امدادی کارکنوں کے مطابق سمندر میں پانی کی اچانک بلند ہونے والی لہروں نے اس خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کے نتیجے میں والدین اور ایک بیٹی موقع پر ہی یا فوراً بعد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ چھ سالہ سجا الخواص کو انتہائی تشویشناک حالت میں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی زندگی بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ برطانوی پولیس اور ریسکیو حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام تر طبی کوششوں کے باوجود بچی جانبر نہ ہو سکی اور اس نے ہسپتال کے انتہائی نگداشت کے وارڈ میں دم توڑ دیا۔ اس المناک واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی اور برطانیہ میں مقیم فلسطینی تارکین وطن میں شدید غم و غصے اور رنج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس خاندان کے ساتھ پیش آنے والے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہنماؤں نے خاندان کے تمام افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاوارث یا متاثرہ لواحقین کے حوالے سے آئندہ کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس دردناک سانحے نے ساحلی علاقوں میں حفاظتی انتظامات اور پانی میں جانے سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔