LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں ٹیچر کے تھپڑ سے بچے کی ہلاکت، وزیر تعلیم کا ایکشن

News Image
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں ایک چھ سالہ طالبعلم کے ٹیچر کی مبینہ زیادتی اور تھپڑ مارنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعے کے بعد والدین اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ علاقائی وزیر تعلیم نے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ایک چھ سالہ معصوم طالب علم مبینہ طور پر اسکول کے ایک استاد کے تھپڑ مارنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔ اس المناک واقعے نے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ اور اساتذہ کے رویے پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور والدین کی جانب سے انصاف کے لیے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ آندھرا پردیش کے ایک مقامی اسکول میں پیش آیا، جہاں کسی معمولی بات پر استاد نے طیش میں آ کر بچے کو مبینہ طور پر زور دار تھپڑ مار دیا۔ اس تشدد کے نتیجے میں بچہ شدید صدمے اور جسمانی تکلیف کا شکار ہو گیا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد علاقائی سطح پر والدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے اسکول کے باہر جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور قصوروار استاد کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت بھی حرکت میں آ گئی ہے۔ آندھرا پردیش کے علاقائی وزیرِ تعلیم نے اس ہلاکت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچے کی موت کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا اور قانون کے مطابق سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ اس قسم کے بہیمانہ واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی نظام میں اصلاحات اور اساتذہ کے لیے نفسیاتی تربیت کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں میں بچوں پر تشدد کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی نافذ کی جائے۔ پولیس اور انتظامیہ معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ واقعے کے تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔