Pakistan
پاکستان خطرناک سمندری حدود کی فہرست سے خارج، شپنگ کے اخراجات کم ہوں گے
پاکستان اور اس کی سمندری حدود کو لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے جس سے جنگی خطرے کے بیمہ پریمیم میں کمی آئے گی۔ اس فیصلے سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال ہوگا اور پاکستانی برآمدات کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔
اسلام آباد: پاکستان اور اس کی سمندری حدود کو باضابطہ طور پر لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی (جے ڈبلیو سی) کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ جمعرات کو سامنے آنے والی اس اہم پیشرفت سے پاکستان آنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرے کے بیمہ پریمیم اور شپنگ کے اضافی اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی برآمدات کی عالمی منڈی میں مسابقت بہتر ہوگی اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا ملک پر اعتماد مضبوط ہوگا۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اس اقدام سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہیں عالمی شپنگ لائنز اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بن جائیں گی، جس سے علاقائی تجارت، کارگو ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یاد رہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز پر پاکستان اور اس کے سمندری علاقوں کو دو دہائیوں قبل اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جس کے باعث پاکستانی تجارت اور شپنگ کو اضافی بیمہ چارجز کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی سربراہی وزیر بحری امور کر رہے تھے۔ کمیٹی نے لائیڈز کے حکام کے ساتھ طویل مذاکرات کیے اور تکنیکی شواہد اور حقائق پر مبنی اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان کا مؤقف کامیابی کے ساتھ پیش کیا۔ وزیر نے بتایا کہ رمضان المبارک کے دوران بھی افطار کے بعد طویل اجلاس منعقد کیے گئے جن کے نتیجے میں آخر کار پاکستان کو اس خطرناک فہرست سے نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس فیصلے سے ملکی سمندری تجارت پر پڑنے والا اضافی مالی بوجھ کم ہوگا اور پاکستانی برآمدات عالمی منڈیوں میں بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں گی۔ وزیر بحری امور نے اس پیشرفت کو پاکستان کو ایک اہم علاقائی لاجسٹکس، ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کی سمت میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعظادہ کیا کہ حکومت بحری سلامتی اور کارکردگی کو بہتر بنانے، بندرگاہوں کی صلاحیت کو بڑھانے اور اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔