Politics
جے یو آئی ف اور اپوزیشن کا مشترکہ پارلیمان پلیٹ فارم بنانے کا فیصلہ
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سمیت اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں سیاسی حکمت عملی طے کرنے کے لیے اہم اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر ایک مشترکہ اپوزیشن پلیٹ فارم تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا تاکہ اہم قومی امور پر موثر آواز اٹھائی جا سکے۔
اسلام آباد میں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی طے کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام ف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی اور پارلیمنٹ کے اندر ایک مشترکہ اپوزیشن پلیٹ فارم بنانے پر اتفاق کیا تاکہ اہم قومی امور پر حکومت کے خلاف زیادہ موثر اور مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور عامر ڈوگر شامل تھے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملک کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو صوبوں میں جنگ جیسی صورتحال ہے اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ شہریوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں اور ہر شخص خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تسلی بخش یقین دہانیاں تو کرا رہی ہے لیکن بار بار کیے جانے والے سکیورٹی آپریشنز کے باوجود مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں تاجر شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کی مغربی سرحد کی بندش نے خطے کے تجارتی اور کاروباری مواقع کو محدود کر دیا ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے بیجنگ کا اعتماد مجروح کیا ہے اور ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ وسائل پر قبضے کی کوششیں بند کی جائیں اور اگر سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ بین الاقوامی عدالتوں سے رجوع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے اور حکومت کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے طے کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی اپنی جماعتوں میں مزید مشاورت کریں گے اور جلد ہی اگلا اجلاس بلا کر آئندہ کے لائحہ عمل کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔