LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تجارتی نظام کی تیاری کی تجاویز

News Image
وزارتِ تجارت نے ملکی برآمدات اور ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ایک محفوظ، مربوط اور مصنوعی ذہانت سے لیس ڈیجیٹل سسٹم بنانے کی تجاویز کا جائزہ لیا ہے۔ وزیرِ تجارت جام کمال خان نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی ڈیٹا قومی اثاثہ ہے جسے محفوظ بنایا جانا چاہیے۔
اسلام آباد میں وزارتِ تجارت نے ایک محفوظ، مربوط اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس ڈیجیٹل تجارتی نظام کی تیاری کے لیے موصول ہونے والی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ڈیٹا کے تبادلے کو محفوظ بنانا، مقامی کلاؤڈ انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا اور ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (PDA) اور اسکائی فورٹی سیون (Sky47) کے نمائندگان کے ساتھ الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں، جن میں سرکاری ڈیٹا کو قومی اثاثہ قرار دینے اور ملکی خود مختار کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ ملاقاتوں کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے ثبوت پر مبنی تجارتی اور برآمدی پالیسیاں بنائی جائیں۔ وزارتِ تجارت کے پاس ہزاروں ٹیرف اور پروڈکٹ لائنز، برآمد کنندگان، بین الاقوامی منڈیوں، تجارتی اداروں، چیمبرز آف کامرس، کاروباری ایسوسی ایشنز اور بیرونِ ملک تجارتی مشنز کا وسیع ڈیٹا موجود ہے۔ وزیرِ تجارت نے اس बिखرے ہوئے ڈیٹا کو معیاری بنانے، یکجا کرنے اور فیصلے کرنے والے مجاز صارفین کے لیے فوری طور پر قابلِ رسائی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی ڈیٹا ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے جسے ہر صورت محفوظ اور قابلِ عمل انٹیلی جنس میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے حکام نے اجلاس کو ڈیٹا گورننس، ڈیٹا ایکسچینج، انٹرپرائز آرکیٹیکچر اور کلاؤڈ ایڈاپشن کے ابھرتے ہوئے قومی فریم ورک پر بریفنگ دی۔ شرکاء نے سرکاری ڈیٹا کو اوپن، شیئرز، ریسٹرکٹڈ اور ذاتی طور پر قابلِ شناخت معلومات جیسے زمروں میں تقسیم کرنے پر غور کیا۔ اس کے علاوہ، ایک قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا جس کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے سیکٹر کے لحاظ سے ڈیجیٹلائزیشن روڈ میپ بنائے جائیں گے۔ دوسری جانب اسکائی فورٹی سیون کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت، خود مختار کلاؤڈ سروسز، سائبر سیکیورٹی، ڈیزاسٹر ریکوری اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اسکائی فورٹی سیون کی ٹیم نے وزیرِ تجارت کو اپنے ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر اور پاکستان میں محفوظ ہوسٹنگ کی گنجائش بڑھانے کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق خدمات فراہم کی جا سکیں اور سیکیورٹی کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔