World
بنگلہ دیشی وزیراعظم کا دورہ ہند: ڈھاکا کا حتمی فیصلے سے انکار
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کے بھارت کے ممکنہ دورے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس اور بھارتی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والی ای میل کے بعد خطے میں سفارتی سطح پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔
ڈھاکا: بنگلہ دیشی حکومت نے ان اطلاعات کی تردید یا تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کے وزیراعظم کے دورہ بھارت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی اور باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کے برعکس سفارتی سطح پر اس معاملے پر فی الحال مشاورت جاری ہے اور کسی بھی تاریخ یا ایجنڈے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں اس ممکنہ دورے کو لے کر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل راشٹرپتی بھون کی جانب سے ایک ای میل بھی سامنے آئی تھی جس میں مبینہ دورے کا ذکر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسے واپس لے لیا گیا۔ اس واقعے نے سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی اس دورے کے حوالے سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے باہمی احترام، برابری اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں شفافیت اور منصفانہ بنیادیں ہونی چاہئیں۔ خاص طور پر طارق رحمان کے ممکنہ دورہ دہلی اور دیگر سفارتی امور پر بات کرتے ہوئے مبصرین کا خیال ہے کہ محض پروٹوکول سے ہٹ کر انصاف اور عوامی امنگوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ڈھاکا کا یہ تازہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کے مستقبل کا انحصار خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور باہمی مفادات پر ہوگا۔