Business
نیپرا کا نو فروری کی ڈیڈ لائن سے قبل نیٹ میٹرنگ کنکشنز صاف کرنے کا فیصلہ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نو فروری کی مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے تمام زیر التوا نیٹ میٹرنگ کنکشنز کو فوری طور پر کلیئر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ اقدام صارفین کو درپیش مشکلات کے ازالے اور شمسی توانائی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں بجلی کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور شمسی توانائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نو فروری کی ڈیڈ لائن سے قبل تمام زیر التوا نیٹ میٹرنگ کنکشنز کو فوری طور پر نمٹانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ فیصلہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ جو صارفین اپنے گھروں یا تجارتی مراکز میں سولر سسٹمز نصب کر چکے ہیں، انہیں ڈسٹ্রি بیوشن کمپنیوں کی جانب سے غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرناپڑے۔
ذرائع کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں صارفین کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ ان کے نیٹ میٹرنگ کے کیسز کئی مہینوں سے متعلقہ بجلی کمپنیوں کے دفاتر میں التوا کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے نیپرا نے تمام متعلقہ اداروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ یعنی نو فروری سے پہلے تمام درخواستوں کا جائزہ لے کر کنکشنز کی تنصیب اور میٹرز کے اجراء کے عمل کو سو فیصد مکمل کریں۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے نظام کے ذریعے نہ صرف عام صارفین کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ ملک میں ماحول دوست اور متبادل توانائی کے ذرائع کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اس وقت ہزاروں صارفین ایسے ہیں جو سولر پینل نصب کرنے کے باوجود ڈسکو کی جانب سے گرین میٹر نہ ملنے کی وجہ سے اپنے اضافی یونٹس قومی گرڈ کو فروخت نہیں کر پا رہے ہیں۔ نیپرا کے اس تازہ اقدام سے ان تمام متاثرہ صارفین کو بڑی راحت ملے گی اور گرین انرجی کے فروغ میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہوں گی۔
ادارہ جاتی سطح پر اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آئندہ کے لیے نیٹ میٹرنگ کی درخواستوں کے پراسیسنگ کے وقت کو کم سے کم کیا جائے تاکہ صارفین کو طویل انتظار نہ کرناپڑے۔ نیپرا کے اس قدم کو تجارتی اور گھریلو دونوں سطحوں پر سراہا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے ملک میں شمسی توانائی کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی اور صارفین کا بجلی کے روایتی نظام پر انحصار کم ہوگا۔