Technology
برطانیہ میں بغیر اے سی کے مکانات کو ٹھنڈا رکھنے کا انوکھا طریقہ
برطانیہ میں گرمیوں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے پیسیو ہاؤس اسٹینڈرڈ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ لوگ پرانے مکانات کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال کر بغیر اے سی کے ٹھنڈا رکھنے کے طریقے اپنا رہے ہیں۔
برطانیہ میں گرمیوں کے موسم میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ہیٹ ویو کی لہر کے پیش نظر مکانات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے نئے اور جدید طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے 1960 کی دہائی کے ایک پرانے کونسل ہاؤس کو جدید پیسیو ہاؤس (Passivhaus) اسٹینڈرڈ کے مطابق تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ سامنے آیا ہے، جو بغیر کسی ایئر کنڈیشننگ سسٹم کے گھر کو معتدل اور ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حیرت انگیز تعمیراتی تکنیک نے ماہرینِ تعمیرات اور عام شہریوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
پیسیو ہاؤس کا بنیادی مقصد عمارت کی توانائی کی کھپت کو کم سے کم کرنا اور اندرونی درجہ حرارت کو قدرتی طریقوں سے قابو میں رکھنا ہے۔ اس پرانے مکان کی تزئین و آرائش کے دوران اس میں اعلیٰ معیار کی تھرمل موصلیت (thermal insulation)، جدید کھڑکیاں اور ہوا کے اخراج و داخلے کا ایک ایسا موثر نظام نصب کیا گیا جو سورج کی تپش کو اندر آنے سے روکتا ہے۔ اس طرح گھر کے مکینوں کو گرمیوں کے شدید ترین دنوں میں بھی روایتی ایئر کنڈیشنرز پر انحصار نہیں کرنا پڑتا، جس سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ کاربن کا اخراج بھی کم ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمیوں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور روایتی برطانوی مکانات زیادہ گرمی جذب کرنے کی وجہ سے تپش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں پیسیو ہاؤس کے اصولوں کو اپنانا ایک بہترین اور پائیدار حل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کامیاب تجربے کے بعد ملک بھر کے گھر کے مالکان اپنے پرانے مکانات کو اس طرز پر ڈھالنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں گرمی کے چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔
حکومت اور ماحول دوست تنظیمیں بھی اس قسم کے توانائی بچت کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں کیونکہ یہ طویل مدتی بنیادوں پر معیشت اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ جیسے جیسے اس معیار کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل کے تعمیراتی ضوابط میں بھی ان اصولوں کو لازمی طور پر شامل کیا جائے گا، تاکہ ہر شہری کو ایک صحت مند، پائیدار اور باسہولت رہائشی ماحول مل سکے۔