LIVE
Loading Breaking News...

بچپن کی شہرت اور منشیات کی لت: چائلڈ اسٹارز کے مسائل

News Image
ماہرین کے مطابق کم عمر میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے فنکار منشیات کی لت کا شکار ہونے کے شدید خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔ بچوں پر کام کا دباؤ اور اس کے ساتھ منشیات کی آسان دستیابی ان کے مستقبل کو تباہ کر دیتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شوبز انڈسٹری میں کم عمر میں شہرت حاصل کرنے والے بچوں کو اکثر غیرمعمولی ذہنی دباؤ اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بچپن میں اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والے اور شہرت پانے والے اداکار منشیات کے استعمال کے مسائل میں مبتلا ہونے کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان کم عمر فنکاروں کے ارد گرد کا ماحول اور پیشہ ورانہ توقعات ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن کی شوبز انڈسٹری میں کام کرنے والے بچوں پر کام کا شدید دباؤ ہوتا ہے، جس میں طویل گھنٹوں کی شوٹنگ اور اسکول کی تعلیم کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، ان بچوں کو انتہائی کم عمری میں ہی بڑی مالی ذمہ داریوں اور ناظرین کی توقعات کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ سب عوامل مل کر ان کی نفسیاتی حالت کو کمزور کر دیتے ہیں، اور وہ اس ذہنی تناؤ سے نجات پانے کے لیے غلط راہوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان کم عمر فنکاروں کے لیے منشیات اور نشہ آور اشیاء تک رسائی نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ فلمی اور ٹیلی ویژن کے سیٹس پر یا اس کے ارد گرد کے ماحول میں ایسی چیزیں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں، جو ان کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ جب یہ بچے کسی بحران کا شکار ہوتے ہیں تو مناسب رہنمائی اور کاؤنسلنگ نہ ملنے کی وجہ سے وہ نشے کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جو ان کے کیریئر اور ذاتی زندگی دونوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شوبز انڈسٹری، پروڈیوسرز اور والدین کو اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کم عمر اداکاروں کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات، مناسب کاؤنسلنگ اور ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ اس دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔ اگر بروقت مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ہونہار بچے ہمیشہ کے لیے منشیات کی بھٹی کا ایندھن بن جائیں گے، جس سے معاشرے اور آرٹ کی دنیا دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔