World
ہانگ کانگ کی آزاد کتابوں کی دکانیں بند، قاریوں کے لیے آزادی کا دروازہ بند
ہانگ کانگ کی آزاد کتابوں کی دکانیں چین کے مین لینڈ کے قاریوں کے لیے ایک آزاد دنیا کی کھڑکی سمجھی جاتی تھیں۔ اب سنسرشپ اور سخت قوانین کی وجہ سے ان تاریخی اور ثقافتی مراکز کے دروازے بتدریج بند ہو رہے ہیں۔
ہانگ کانگ کی آزاد کتابوں کی دکانیں طویل عرصے سے مین لینڈ چین کے قاریوں کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ اور کھڑکی کی حیثیت رکھتی تھیں جہاں انہیں اپنے ملک کے روایتی اور سخت بیانیے سے ہٹ کر ایک مختلف اور آزاد دنیا کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا تھا۔ یہ چھوٹے اور انوکھے بک سٹورز صرف تجارت کا مرکز نہیں تھے بلکہ فکری آزادی اور سیاسی مباحث کی علامت سمجھے جاتے تھے جہاں ہر پس منظر کے لوگ کھل کر مطالعہ کر سکتے تھے۔
تاہم، حالیہ برسوں کے دوران سیاسی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی اور سنسرشپ کے سخت قوانین کے نفاذ کے بعد ان ثقافتی اداروں کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ایک کے بعد ایک یہ آزاد کتابوں کی دکانیں اپنے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، جس سے ہانگ کانگ کی روایتی فکری اور لبرل فضا کو شدید دھچکا لگا ہے۔ مالکان کے لیے بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، کرایوں میں ہوشربا اضافہ اور سیاسی دباؤ نے اس کاروبار کو جاری رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔
مین لینڈ چین سے آنے والے قاری جو ان دکانوں کا رخ اس امید کے ساتھ کرتے تھے کہ وہ یہاں ایسی کتب حاصل کر سکیں گے جو ان کے اپنے ملک میں ممنوع ہیں، اب اس سہولت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان دکانوں کا بند ہونا محض چند تجارتی اداروں کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ اس فکری آزادی کے خاتمے کی علامت ہے جو کبھی ہانگ کانگ کی سب سے بڑی پہچان ہوا کرتی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دروازوں کے بند ہونے سے آنے والی نسلیں ایک اہم تاریخی اور تعلیمی ورثے سے محروم ہو جائیں گی۔