World
ڈونلڈ ٹرمپ رپورٹرز پر کیوں غصہ ہوتے ہیں اور کون سے سوالات ناپسند کرتے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ تلخ کلامی اور ان کے سوالات پر برہم ہونے کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں ان سوالات اور موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا جواب دینا صدر ٹرمپ کو ناپسند ہے۔
امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر کون سی ایسی چیزیں ہیں جو صدر ٹرمپ کو مشعال کر دیتی ہیں اور وہ صحافیوں کو خاموش کرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جب بھی کوئی رپورٹر ایسا سوال پوچھتا ہے جو ان کے مزاج کے خلاف ہو یا ان کی پالیسیوں اور ذاتی زندگی پر تنقید کرتا ہو، تو ان کا ردعمل اکثر انتہائی سخت ہوتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ان سوالات سے شدید نفرت ہے جو ان کی قانونی مشکلات، انتخابی مہم کے مالی معاملات، یا ان کے بعض متنازعہ بیانات سے متعلق ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی کئی مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی صحافی نے پریس کانفرنس کے دوران کوئی مشکل یا چبھتا ہوا سوال پوچھا، تو ٹرمپ نے نہ صرف سوال کا جواب دینے سے گریز کیا بلکہ متعلقہ رپورٹر کو ذاتی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کمرے سے باہر نکل جانے یا خاموش رہنے کا حکم دیا۔
صحافتی تنظیموں کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں رہنماؤں سے مشکل سوالات پوچھنا میڈیا کا بنیادی فریضہ ہے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کا انداز اس کے بالکل برعکس رہا ہے جو اکثر روایتی میڈیا کو فیک نیوز اور اپنی مخالفت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کا رویہ ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے حامیوں کے سامنے میڈیا کی ساکھ کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں بھی سیاسی گلیاروں میں یہ بحث جاری رہنے کا امکان ہے کہ آیا امریکی صدر کا میڈیا کے ساتھ یہ جارحانہ رویہ ان کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے یا اس سے جمہوریت کے بنیادی ستون کمزور ہوتے ہیں۔ بہرحال، ٹرمپ کی جانب سے صحافیوں کو خاموش کرانے کے یہ مناظر اب عالمی میڈیا کا ایک مستقل حصہ بن چکے ہیں جن پر سیاسی ماہرین مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔