LIVE
Loading Breaking News...

میتھیو اور ان کی والدہ لیسا ہیڈن جانسن کی حیرت انگیز اور تکلیف دہ کہانی

News Image
چینل فور کی ایک نئی دستاویزی فلم کے اجراء سے قبل، لیسا ہیڈن جانسن کے بیٹے میتھیو نے اپنی والدہ کے ماضی کے اقدامات پر کھل کر روشنی ڈالی ہے۔ میتھیو کے مطابق ان کی والدہ کا رویہ انتہائی تکلیف دہ تھا لیکن وہ اب بھی اپنے اس طرزِ عمل کو درست مانتی ہیں۔
چینل فور پر نشر ہونے والی ایک نئی اور سنسنی خیز دستاویزی فلم کے منظر عام پر آنے سے قبل، لیسا ہیڈن جانسن کے بیٹے میتھیو نے اپنی والدہ کے ماضی کے خطرناک اور تکلیف دہ اقدامات پر کھل کر بات کی ہے۔ میتھیو نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی والدہ نے طویل عرصے تک ان کی بیماری کے حوالے سے جھوٹ بولا اور معاشرے میں یہ تاثر قائم کیا کہ ان کا بیٹا شدید بیمار ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس قسم کے نفسیاتی رویے عموماً میونخ ہاؤسن سنڈروم بائے پراکسی (Munchausen syndrome by proxy) کے زمرے میں آتے ہیں، جہاں کوئی نگہداشت کرنے والا شخص توجہ یا ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے فرد کو بیمار ظاہر کرتا ہے۔میڈیا رپورٹس اور دستاویزی فلم کے مطابق، میتھیو کو بچپن میں انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی والدہ نے طبی عملے اور عام لوگوں کو یہ یقین دلانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے کہ وہ ایک لاعلاج بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس دوران میتھیو کو غیر ضروری طبی جانچ اور تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑا، جس نے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایک بچے کے لیے یہ بات ناقابلِ یقین اور صدمہ دینے والی ہوتی ہے کہ اس کی اپنی ماں اس کے ساتھ اس طرح کا فریب کر سکتی ہے، لیکن میتھیو نے بڑی بہادری کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور اب وہ اس حقیقت کو دنیا کے سامنے لے کر آ رہے ہیں۔سب سے زیادہ حیرت انگیز اور پریشان کن بات یہ ہے کہ اتنے سنگین الزامات اور حقائق سامنے آنے کے باوجود، لیسا ہیڈن جانسن کو اپنے کیے پر ذرا بھی ندامت نہیں ہے۔ میتھیو کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ اب بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا تھا، بلکہ وہ بدستور اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ ماضی میں انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ بالکل درست تھا۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ذہنی مسائل میں مبتلا افراد اپنی ضد اور فریب کی دنیا سے باہر نہیں نکل پاتے، جس کی وجہ سے متاثرہ بچوں کے لیے ذہنی سکون حاصل کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ دستاویزی فلم نہ صرف اس خاندان کی دردناک کہانی بیان کرتی ہے بلکہ معاشرے میں بچوں کے حقوق اور ذہنی صحت کے حوالے سے اہم سوالات بھی اٹھاتی ہے۔