LIVE
Loading Breaking News...

چین کا چاند مشن چینگ-ਈ-7 اور قمری برف کی تحقیق

News Image
چین کا آنے والا خلائی مشن چاند کے تاریک گڑھوں میں چھپے پانی اور برف کے راز دریافت کرنے پر مرکوز ہوگا۔ اس تحقیق سے مستقبل میں چاند پر انسانی بستیوں اور خلائی مشنز کے لیے پانی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
چین کا خلائی پروگرام ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ ملک کا نیا مجوزہ چاند مشن قمری برف اور پانی کے دیرینہ رازوں کو بے نقاب کرنے کے لیے تیار ہے۔ حالیہ اعلانات کے مطابق، یہ اہم مشن چاند کے ان حصوں کا احاطہ کرے گا جو اب تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں اور جہاں سورج کی روشنی براہ راست نہیں پہنچ پاتی۔ اس نئے مشن کا بنیادی مقصد چاند کے تاریک اور گہرے گڑھوں میں پھنسے ہوئے پانی کی موجودگی کی حتمی تصدیق کرنا اور اس کی مقدار کا تخمینہ لگانا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ چاند کے قطبین کے قریب واقع ان سائے دار گڑھوں میں اربوں سال پرانی برف موجود ہو سکتی ہے، جو قمری ارضیات اور نظام شمسی کی تاریخ کے بارے میں اہم شواہد فراہم کر سکتی ہے۔ مستقبل کے خلائی سفر اور چاند پر مستقل سائنسی تحقیقی مراکز یا انسانی بستیاں قائم کرنے کے منصوبوں کے لیے پانی کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر اس مشن کے ذریعے چاند پر قابلِ استعمال پانی کی وافر مقدار دریافت ہو جاتی ہے تو یہ خلائی صنعت اور طویل فاصلے کے خلائی سفر کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ پانی سے نہ صرف خلاء بازوں کو پینے کی سہولت ملے گی بلکہ اسے راکٹ کے ایندھن میں بھی تبدیل کیا جا سکے گا۔ چین کی خلائی ایجنسی اس مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور سائنسی آلات کا استعمال کر رہی ہے۔ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ قدم قمری تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا، جس سے کائنات کے دیگر سیاروں اور چاند کے بارے میں ہماری معلومات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ دنیا بھر کے سائنسدان اس مشن کے آغاز اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے شدت سے منتظر ہیں۔