World
فلپائن سیلاب متاثرین کا فنڈز کی شفافیت پر حکام سے جواب طلب
فلپائن کے شمالی علاقوں میں شدید سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز نے حکام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فنڈز کے استعمال پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سیلاب سے نمٹنے کے لیے مختص کی جانے والی رقم اور اس کی شفافیت کے بارے میں فوری وضاحت پیش کرے۔
فلپائن کے شمالی علاقوں میں شدید سیلاب کی زد میں آنے والی کمیونٹیز نے حکومت سے سیلاب پر قابو پانے کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز کے معاملے پر کڑے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹر جمیلا الینڈوگن کے مطابق، حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے اور وہ حکام کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کے برعکس زمینی حقائق جاننے کی خواہشمند ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر جاری ہونے والے فنڈز کے باوجود زمینی سطح پر حفاظتی اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ہر سال قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان ہوتا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر جو منصوبے بنائے گئے تھے، ان پر یا تو عمل درآمد نہیں کیا گیا یا پھر فنڈز کا مناسب استعمال نہیں ہوا۔ عوام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان فنڈز کی آڈٹ رپورٹ پیش کرے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اتनी بڑی رقوم کہاں خرچ کی گئیں۔ اس صورتحال نے مقامی انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور عوام اب احتساب کے پرزور مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر بھی نکل آئے ہیں۔
دوسری جانب، حکام کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم عوام کا غصہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وقتی امداد کی بجائے مستقل اور پائیدار حل کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ فلپائن کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور کرپشن سے پاک شفاف نظام کی اشد ضرورت ہے، بصورت دیگر اس قسم کے قدرتی ریلے ہر بار تباہی کی نئی داستانیں چھوڑ جائیں گے۔