LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی اسپتال منتقلی: سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر

News Image
پی ٹی آئی کے بانی بانی کی ہمہ وقت طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف اور اہم سرکاری شخصیات کو فریق بنایا گیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے ہفتے کے روز سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو وفاقی دارالحکومت کے ایک نجی اسپتال میں منتقل کرنے کے 18 اگست کے حکم نامے کی دانستہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وکیل عزیر کرامت بھنڈاری کے توسط سے دائر کی جانے والی اس توہین عدالت کی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کو پامال کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کسی عدالتی افسر یا مقامی کمیشن کو تعینات کرے تاکہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر طبی معائنے کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جا سکے۔ اس پٹیشن میں وفاقی دارالحکومت کے چیف کمشنر (ر) لیفٹیننٹ سہیل اشرف، سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فریقین کی جانب سے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل اور کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ پٹیشن کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ 18 اگست کے احکامات بالکل واضح، غیر مبہم اور دوٹوک تھے جن پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کرنا فریقین کی آئینی و قانونی ذمہ داری تھی۔ یہ احکامات اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل اور پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی موجودگی میں جاری کیے گئے تھے، اس لیے اس کے کسی بھی حصے کو مزید تشریح یا ترمیم کی ضرورت نہیں تھی۔ درخواست گزار کے مطابق ذمہ دار حکام نے عدالتی احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے دانستہ نافرمانی کا مظاہرہ کیا ہے جس پر عدالت عظمیٰ کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔