LIVE
Loading Breaking News...

سینٹ اجلاس: پی ٹی آئی کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر کورم پورا نہ ہو سکا

News Image
اسلام آباد میں سینٹ کا اجلاس اس وقت ملتوی کر دیا گیا جب چیئرمین نے پی ٹی آئی سینیٹر کو سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی کے عدالتی احکامات پر بات کرنے کی اجازت نہ دی۔ اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد کارروائی پیر کی شام تک ملتوی کرنا پڑی۔
اسلام آباد میں جمعہ کے روز سینٹ کا اجلاس کسی بھی اہم ایجنڈے پر بحث کے بغیر ہی ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس کی کارروائی میں اس وقت خلل پڑا جب چیئرمین نے تحریک انصاف کی ایک قانون ساز کو سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے وفاقی دارالحکومت کے نجی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کی مبینہ عدم تعمیل پر بات کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ سینیٹر منظور کاکڑ کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں سوال و جواب کے وقفے کے دوران سینیٹر مشال خان یوسفزئی نے اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کی۔ سینیٹر مشال خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ عدالت کی واضح ہدایات کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال نہیں لے جایا گیا، بلکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ انہیں پمز اسپتال لے جایا گیا اور انتہائی قلیل وقت میں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کر سکتی تو ایوان کی کارروائی کو بھی چلنے نہیں دیا جائے گا۔ اس دوران چیئرمین نے انہیں ہدایت کی کہ وہ فی الحال صرف سوال و جواب کے وقفے پر ہی بات کریں اور اس معاملے پر مزید بحث کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور سینیٹر مشال خان نے ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کر دی۔ چیئرمین کی ہدایت پر گھنٹیاں بجائی گئیں لیکن کافی کوششوں کے باوجود کورم پورا نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں اجلاس کی کارروائی کو پیر کی شام تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ اس تعطل کی وجہ سے ایجنڈے میں شامل کئی اہم امور پر بحث نہیں کی جا سکے جن میں پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق توجہ دلائو نوٹس بھی شامل تھا۔ ایجنڈے میں شامل دیگر نامکمل امور میں پاکستان میں پاک ایران گیس پائپ لائن کی عدم تکمیل پر وزیر توانائی کی توجہ مبذول کرانا تھا، جس کے بارے میں مؤقف اپنایا گیا کہ اس تاخیر کی وجہ سے ملک میں گیس کا مسلسل بحران پیدا ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے قیمتوں کی منظوری میں تاخیر کے باعث ضروری ادویات کی قلت اور مارکیٹ میں جعلی ادویات کی فراہمی کا معاملہ بھی اٹھایا جانا تھا۔ ایوان میں صدر مملکت کے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک بھی کارروائی کا حصہ تھی جو اب پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں زیر غور آئے گی۔