World
امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد مفاہمت کے تحت جاری، دفتر خارجہ کی تصدیق
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مابین رابطے اور مذاکرات اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے خطے میں امن و امان کے استحکام کے لیے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ بحال کریں۔
اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے منعقدہ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا عمل اسلام آباد کی یادداشت مفاہمت (MoU) کے مخصوص فریم ورک کے اندر ہی جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کے مثبت کردار کو نبھا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال بالخصوص خلیجی خطے میں سکیورٹی کے چیلنجز بدستور نازک نوعیت کے ہیں، جن کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو انتہائی صبر و تحمل اور عقل مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران خلیجی خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے ترجمان نے خبردار کیا کہ خطے میں تناؤ کے خاتمے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ سفارتی دروازے ہمیشہ کھلے رکھے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں جنگ یا کشیدگی کے بجائے ہمیشہ مذاکرات اور پرامن حل کا حامی رہا ہے، کیونکہ تصادم سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں طے پانے والی یادداشت مفاہمت اس سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس نے دونوں متحاد فریقین کو بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایک قابلِ قبول پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تکنیکی سطح کی بات چیت کا باقاعدہ آغاز کریں تاکہ درپیش پیچیدہ تکنیکی اور سیاسی امور کو مرحلہ وار حل کیا جا سکے۔ تکنیکی مذاکرات کی بحالی سے باہمی اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور غلط فہمیوں کے ازالے میں مدد ملے گی۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، تاکہ خلیج سمیت پورے خطے کو کسی بھی بڑے بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔