LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش کا پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا اشارہ

News Image
بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے امکان پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر کبیر نے واضح کیا ہے کہ ملکی مفادات کو پالیسی سازی میں ہمیشہ مقدم رکھا جائے گا۔
بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ایک ممکنہ دفاعی معاہدے میں شمولیت اختیار کرنے کے حوالے سے مثبت اشارے دیے ہیں۔ خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس پیشرفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈھاکا کی جانب سے اس دفاعی شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کرنے سے خطے کے عسکری اور اسٹریٹجک منظرنامے میں نئے دروازے کھلنے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر کبیر کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کی تشکیل میں ہمیشہ ملکی مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کسی بھی ایسے معاہدے یا اتحاد کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے جو ملک کی سلامتی اور اقتصادی ترقی کے لیے سودمند ثابت ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بنگلہ دیش اپنی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے دوست ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب پہلے ہی دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اگر بنگلہ دیش بھی اس دائرہ کار میں شامل ہوتا ہے تو اس سے مسلم دنیا کے اہم ممالک کے درمیان عسکری اور تکنیکی اشتراک کو مزید تقویت ملے گی۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے علاقائی اتحاد امن کے قیام اور باہمی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس ممکنہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے مزید سفارتی رابطے متوقع ہیں، جن میں اس شراکت داری کی حتمی خدوخصال اور شرائط طے کی جائیں گی۔ بنگلہ دیشی عوام اور حلقوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا ہونے کی توقع ہے۔