LIVE
Loading Breaking News...

امریکی عدالت کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے ویزا معطلی کے خلاف بڑا فیصلہ

News Image
امریکی عدالت نے پاکستان اور دیگر 74 ممالک کے تارکین وطن کے لیے ویزا معطلی کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے روک دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی وفاقی قانون کی خلاف ورزی اور صوابدیدی اختیارات سے تجاوز ہے۔
امریکی عدالت نے پاکستان اور دنیا بھر کے دیگر 75 ممالک کے لیے تارکین وطن کے ویزا معطلی سے متعلق متنازع پالیسی پر فوری طور پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک بڑے قانونی موڑ پر سامنے آیا ہے جہاں عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ پابندیاں وفاقی قوانین کے خلاف ہیں اور اس طرح کی قومیتی بنیادوں پر عائد کردہ پابندیاں قانونی دائرہ کار سے باہر ہیں۔ عدالت کے اس اقدام سے ہزاروں ایسے درخواست گزاروں کو بڑی राहत ملی ہے جن کے ویزے اس نئی پالیسی کی زد میں آنے کے باعث التوا کا شکار ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ پالیسی محکمہ خارجہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے نافذ کی گئی تھی جس نے تارکین وطن کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر رکھی تھیں۔ معزز عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ یہ پالیسی قانونی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے اور وفاقی قوانین اس طرح کی صوابدیدی اور امتیازی پابندیوں کی اجازت نہیں دیتے۔ اس فیصلے کے بعد اب وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ویزا درخواستوں پر پرانے اور طے شدہ قانونی ضابطوں کے تحت ہی عمل درآمد کرنا ہوگا۔ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ عدالتی حکم کے نتیجے میں متاثرہ ممالک کے شہریوں کو اپنی ویزا درخواستوں کی بحالی کے لیے قانونی طور پر ایک مضبوط پلیٹ فارم مل گیا ہے اور ان کی طویل غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس عدالتی فیصلے پر فی الحال مزید لائحہ عمل زیر غور ہے تاہم متاثرہ درخواست گزاروں میں اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اپنے معاملات کی جلد از جلد بحالی کے لیے پرامید ہیں۔