Business
گیپکو کی نجکاری: سعودی، ترک اور مقامی کمپنیوں کی شمولیت
پاکستان کے پاور سیکٹر کی نجکاری کے عمل میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں متعدد نامور ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے توانائی کے شعبے کو بہتر بنانا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
اسلام آباد میں سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کے توانائی کے شعبے کی نجکاری کے عمل کو اس وقت زبردست تیزی اور کامیابی حاصل ہوئی ہے جب گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی یعنی گیپکو کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھاری دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی متعدد نامور کارپوریٹ کمپنیوں اور سرمایہ کار گروپس نے اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ ملک کے پاور ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں بہتری لائی جا سکے۔ حکومتی اداروں کے مطابق گیپکو سمیت ملک کی دیگر اہم بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے خصوصی اسپیشل پرپز وہیکل کی تشکیل پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کا تخمینہ اربوں روپے لگایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں گیپکو کی بولی کے عمل میں گیارہ سے زائد نامزد سرمایہ کاروں کی جانب سے سنجیدہ بولیاں موصول ہوئی ہیں جو ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دی جا رہی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نجکاری سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ بجلی کی ترسیل کے نظام میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن ہو سکے گا۔ حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ تمام مراحل شفافیت کے ساتھ مکمل کیے جائیں تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بحال ہو اور ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس عمل کو مزید حتمی شکل دی جائے گی جس سے ملک کے صنعتی و تجارتی حلقوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سے طویل المدتی بنیادوں پر بجلی کے نظام میں بہتری آئے گی۔