LIVE
Loading Breaking News...

صومالیہ میں غذائی قلت کا بحران، امداد میں کمی کے بعد بچوں کی حالت تشویشناک

News Image
صومالیہ میں بین الاقوامی امداد میں کٹوتی کے بعد بچوں میں شدید غذائی قلت کے کیسز میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران سے لاکھوں کمسن بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
صومالیہ میں خشک سالی اور وسائل کی شدید کمی کے باعث بچوں کی بھوک کا بحران خطرناک حد تک گہرا ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں شدید غذائی قلت کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد میں حیرت انگیز طور پر 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے گہرے ہونے کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی امداد میں کی جانے والی کٹوتیاں ہیں۔ فنڈز کیمی کے باعث متاثرہ علاقوں میں خوراک اور علاج معالجے کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں بچوں کو بروقت امداد نہیں مل پا رہی۔ صومالیہ کے کسان اور غریب خاندان پہلے ہی طویل خشک سالی کی وجہ سے تباہ حال ہیں اور اب امداد بند ہونے یا کم ہونے سے ان کے پاس زندہ رہنے کے ذرائع بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ یونیسیف نے عالمی برادری سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں اور صومالیہ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مالی امداد بحال کریں۔ ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے ہفتوں میں اموات کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں طبی کیمپوں اور غذائی مراکز کو فوری طور پر فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کمسن بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ صومالیہ کے عوام اس وقت تاریخ کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں جہاں خوراک کی قلت کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف وقتی امداد کافی نہیں ہوگی بلکہ طویل مدتی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک حالات سے بچا جا سکے۔