Politics
عمران خان کے لیے ڈیل یا ڈھیل کا زیرو چانس، ذرائع
حکومتی اور سیاسی حلقوں میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل یا ڈھیل کی افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام ماضی کے تمام تجربات سے بالکل مختلف بنیادوں پر استوار ہے۔
اسلام آباد میں سیاسی حلقوں کے اندر زیر گردش ان خبروں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا گیا ہے جن میں تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے کسی بھی قسم کی ڈیل یا ڈھیل کا ذکر کیا جا رہا تھا۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو کسی بھی قسم کا ریلیف ملنے کا امکان فی الحال صفر ہے اور اس حوالے سے جتنی بھی باتیں کی جا رہی ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ محض چند افراد کی ذاتی خواہشات کا عکاس ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی ماننا ہے کہ موجودہ ملکی نظام اور سیاسی صورتحال ماضی کے ادوار سے یکسر مختلف ہے، جہاں فیصلوں کے تقاضے اور ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ ماضی میں سیاسی ڈیلز اور مفاہمت کے جو روایتی طریقے دیکھے جاتے رہے ہیں، موجودہ سیٹ اپ میں ان کی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش اور تناؤ کے اس دور میں حکومت اور ریاستی اداروں کی طرف سے واضح پیغام یہی ہے کہ قانون کی عملداری اور عدلیہ کے فیصلوں کو ان کے اپنے دائرہ کار میں ہی دیکھا جائے گا۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے جو مسلسل یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر ملکی معیشت اور سیاست کا استحکام ممکن نہیں۔ تاہم، حالیہ بیانات اور حکومتی حلقوں کے سخت مؤقف نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ آرائی میں کمی کے کوئی فوری آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ عوام اور مبصرین کی نظریں اس تمام صورتحال پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے مہینوں میں عدالتی فیصلوں کے بعد سیاسی میدان میں کوئی نئی پیشرفت ہوتی ہے یا جمود کا یہ طویل سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔