LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک بچوں کی پرائیویسی کیس میں چالیس کروڑ ڈالر جرمانہ ادا کرے گا

News Image
مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک بچوں کی رازداری کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق ایک اہم قانونی مقدمے کو نپٹانے کے لیے چالیس کروڑ ڈالر ادا کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ اس تصفیے کا مقصد کم عمر صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور آن لائن سکیورٹی سے متعلق تحفظات کو دور کرنا ہے۔
مقبول ترین مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک بچوں کی رازداری کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں سے جڑے ایک طویل قانونی تنازعے کو حل کرنے کے لیے چار سو ملین (چالیس کروڑ) ڈالر کی خطیر رقم بطور تصفیہ ادا کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ اس پیشرفت کو سوشل میڈیا انڈسٹری اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کی طرف سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے آن لائن پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ مقدمہ بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز تھا کہ آیا ایپ کی جانب سے بچوں کی ذاتی معلومات اور ان کی آن لائن سرگرمیوں کو کس طرح جمع اور استعمال کیا جا رہا تھا۔ بچوں کی پرائیویسی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر ریگولیٹرز اور متاثرہ خاندانوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنے کے بعد، اب اس تصفیے کے ذریعے معاملے کو عدالت سے باہر نمٹانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ ٹک ٹاک کے ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم پر تمام صارفین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی سکیورٹی اور رازداری کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس رقم کی تقسیم اور اس سے متاثرہ صارفین کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ اس اقدام سے دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔