AI
اسوتھ دامودران کا مصنوعی ذہانت اور کاروباری مستقبل پر تجزیہ
نامور ماہر معاشیات اسوتھ دامودران کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو اب محض پروپیگنڈا یا شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ایک مستحکم کاروبار کے طور پر جانچنے کی ضرورت ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی اب سرمایہ کاری کے مراحل سے گزر کر باقاعدہ کاروباری تعمیر کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے حوالے سے دنیا بھر میں جاری بحث اب ایک نئے اور اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ معروف مالیاتی ماہر اور پروفیسر اسوتھ دامودران نے اس حوالے سے ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے جس میں انہوں نے کاروبار اور اے آئی کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں اب بحث کو بڑھ چڑھ کر کی جانے والی باتوں اور شک و شبہات سے نکال کر ایک حقیقی کاروبار کے طور پر جانچنے کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی انقلابی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا سفر چار بنیادی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سب سے پہلے حد سے زیادہ جوش و خروش یا ہائپ، پھر سرمایہ کاری، اس کے بعد باقاعدہ بزنس بلڈنگ اور آخر میں ری کیلیبریشن یا اصلاح کا مرحلہ آتا ہے۔ اسوتھ دامودران کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اس وقت اس کے تیسرے مرح یعنی کاروباری تعمیر کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے تحت کمپنیوں کو اس کے عملی استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ دور میں جہاں دنیا بھر کی بڑی اور چھوٹی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو اپنے سسٹمز میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کا اصل پھل کب اور کیسے ملے گا۔ دامودران کا یہ تجزیہ کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک چشم کشا حیثیت رکھتا ہے، جو انہیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ عجلت یا اندھی تقلید کے بجائے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اے آئی کو اپنے کاروباری ماڈلز کا حصہ بنائیں۔ آنے والے وقت میں وہی ادارے کامیاب ہوں گے جو مصنوعی ذہانت کو محض ایک فیشن کے طور پر نہیں بلکہ ایک پائیدار کاروباری اثاثے کے طور پر دیکھیں گے۔