LIVE
Loading Breaking News...

ٹی سی ایس ملازمین کے لیپ ٹاپ مانیٹرنگ سافٹ ویئر کی تفصیلات

News Image
بھارتی آئی ٹی جنات ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز نے ملازمین کے لیپ ٹاپس پر ڈیجیٹل یوزر ایکسپیرینس مانیٹرنگ کا نیا ٹول نصب کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیٹا کی چوری کو روکنا ہے تاہم اس پر ملازمین کی جاسوسی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بھارتی آئی ٹی انڈسٹری کی بڑی کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) نے اپنے ملازمین کے لیپ ٹاپس پر ایک نیا 'ڈیجیٹل یوزر ایکسپیرینس مانیٹرنگ' ٹول نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد ملازمین کی کارکردگی اور ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر ملازمین کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس ٹول کو لانے کا مقصد ممکنہ طور پر ڈیٹا لیکس کو روکنا اور کاروباری رازوں کی حفاظت کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نئے ٹول کے ذریعے کمپنی کے پاس یہ صلاحیت آ گئی ہے کہ وہ لیپ ٹاپ پر ہونے والی مختلف سرگرمیوں کا جائزہ لے سکے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طرح کے ٹولز کو ملازمین کی پیداوار بڑھانے اور سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں، لیکن دوسری طرف اس عمل میں شفافیت کی کمی پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی مانیٹرنگ سے ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے جو کہ طویل مدت میں کارکردگی پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں ملازمین کے حقوق اور پرائیویسی کے حامی حلقوں کی طرف سے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کے سافٹ ویئر کی تنصیب ان کی ذاتی زندگی اور ڈیجیٹل پرائیویسی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ دوسری جانب، کارپوریٹ اداروں کا موقف ہے کہ موجودہ دور میں سائبر سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ ٹی سی ایس انتظامیہ اس تنازعے کے بعد ملازمین کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ کیا کمپنی اس ٹول کے استعمال کے حوالے سے مزید شفافیت لائے گی یا ملازمین کی طرف سے اس پر مزید مزاحمت دیکھنے کو ملے گی؟ یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید کارپوریٹ کلچر میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور ملازمین کی پرائیویسی کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔